15 جنوری 2011 - 20:30

عراق کے مختلف اداروں اور شخصیات نے سعودی عرب میں عراقی شیعہ باشندوں کی اجتماعی گردن زنی کی شدید مذمت کی ہے مگر ریاض میں عراقی سفیر نے "ایرانی ذرائع ابلاغ کی اس رپورٹ!" کی تردید کی ہے!۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض میں مقیم عراقی سفیر "غانم الجمیلی" نے ریاض سے شائع ہونے والے ایک وہابی اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے نہایت معذرت خواہانہ لب و لہجے میں، سعودی عرب میں 40 عراقی شیعہ باشندوں کی اجتماعی گردن زنی سے متعلق ـ بقول ان کے ـ ایرانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ "سعودی عرب میں کسی عراقی شہری کا سر قلم نہیں کیا گیا ہے!"۔یادرہے کہ عراق میں سعودی مرضی کے خلاف شیعہ حکومت کے قیام پر سعودی عرب میں مختلف حیلوں بہانوں سے، بغیر مقدمہ چلائے حبس بے جا کا شکار قیدیوں میں سے چالیس افراد کے سر بغیر کسی قانونی جواز اور عدالتی حکم کے، قلم کردیئے گئے ہیں جس کی اطلاع ابتدائی طور پر عراق کے معتبر ذرائع ابلاغ نے شائع کردی اور عراقی حکومت کے مختلف عہدیداروں نے اس غیر قانونی اور غیر انسانی وحشیانہ سعودی اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔الجمیلی نے کہا: یہ جھوٹی خبر ایرانی اور عراقی ذرائع ابلاغ نے نشر کی ہی اور مجھے نہیں معلوم کہ ان ذرائع ابلاغ کا اس اقدام سے مقصد کیا تھا!؟ عراقی سفیر نے بیشتر عراقی عہدیداروں اور انسانی حقوق کے اداروں کے شدید ترین مذمتی بیانات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: "بعض عراقی سرکاری عہدیداروں نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے!"۔عراقی سفیر نے کہا: میں کچھ دن قبل سعودی وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز سے ملاقات کے لئے گیا اور سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی شفایابی پر مسرت کا اظہار کیا مگر نائف بن عبدالعزیز عراقی اور ایرانی ذرائع ابلاغ میں عراقی شہریوں کو سعودی عرب میں اجتماعی سزائے موت دیئے جانے پر مبنی اطلاعات کی اشاعت سے ناراض تھے؛ چنانچہ میں نے کہا کہ میرے ملک کے اعلی سرکاری شخصیات نے اس خبر کی صحت کی تصدیق نہیں کی ہے! تاہم صرف ذرائع ابلاغ اس خبر کو اچھال رہے ہیں۔ سعودی عرب میں ذاتی تعلقات پر حرف آنے سے خائف عراقی سفیر کا یہ موقف ایسے حال میں سامنے آیا ہے کہ عراق کے صوبہ کربلا کی گورنریٹ کونسل کے رکن "دعبل الخزعلی" نے حال ہی میں سعودی عرب میں مقدمہ چلائے بغیر 40 سے زائد عراقی شیعہ باشندوں کے سر قلم کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ 40 افراد عراقی شیعہ باشندے تھے جو سعودی جیلوں میں بغیر مقدمہ چلائے قید تھے۔ دریں اثناء عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل "عمرو موسی" کے دورہ بغداد کے وقت ایک عراقی رکن پارلیمان نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ سعودی عرب میں عراقی شیعہ قیدیوں کی غیر قانونی قید اور اجتماعی قتل کے مسئلے پر غور و خوض کریں اور عمرو موسی نے بھی اس مسئلے کی تفتیش کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ نیز عراقی پارلیمان کے سربراہ "اسامہ النجیفی" نے بھی عراقی وزیر خارجہ "ہوشیار زیباری" کو یاددہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب میں عراقی شہریوں کے سر قلم کئے جانے کے موضوع پر سعودی حکومت سے وضاحت مانگیں اور عراقی پارلیمان کو رپورٹ پیش کریں۔

........

/110